Detailed Explanation in English
The opening word “But” connects this verse with the previous verses where Jude warns about people who create division and follow ungodly desires. After describing the danger of false teachers, Jude turns the attention of believers toward something reliable: the words spoken by the apostles.
The phrase “beloved” shows Jude’s deep love and concern for the people of God. He does not give this warning with anger or pride but with care. He wants believers to protect their faith and remain spiritually strong.
The phrase “remember ye the words” is a call to keep the apostolic teachings in their hearts and minds. Remembering in the biblical sense means more than simply recalling information. It means holding firmly to the truth, practicing it, and allowing it to guide daily life.
The apostles of Jesus Christ had a special role in spreading the message of salvation. They personally witnessed the life, teachings, death, and resurrection of Jesus Christ. Their words carried the authority of the message they received from Him.
Jude reminds believers that spiritual stability comes from following the truth that was already given. New ideas, false doctrines, and misleading teachings should always be examined in light of the teachings of Jesus Christ and His apostles.
This verse teaches several important lessons:
- Believers must value true teaching.
Spiritual growth depends on knowing and following the correct message. - Believers should be aware of false teachings.
Jude warns that not every spiritual message comes from God. Discernment is necessary. - The teachings of the apostles provide guidance.
Their writings encourage faith, obedience, love, and a life that honors Jesus Christ. - Remembering God’s truth strengthens faith.
In difficult times, believers can remain firm by returning to the foundation of biblical teaching.
Jude 1:17 is therefore a reminder that faith should not be based only on personal feelings or changing opinions. It should be built upon the trustworthy words that were delivered through the apostles of our Lord Jesus Christ.
اردو میں تفصیلی وضاحت
آیت: یہوداہ 1:17
“لیکن اے عزیزو، اُن باتوں کو یاد رکھو جو ہمارے خداوند یسوع مسیح کے رسولوں نے پہلے کہی تھیں۔”
— یہوداہ 1:17
یہ آیت ایمانداروں کو ایک اہم روحانی یاد دہانی کراتی ہے کہ وہ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے رسولوں کی تعلیمات کو ہمیشہ یاد رکھیں اور ان پر قائم رہیں۔
یہوداہ نے اپنے خط میں اُن لوگوں کے بارے میں خبردار کیا جو غلط تعلیمات پھیلاتے تھے اور لوگوں کو سچے ایمان سے دور کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ ایمانداروں کو یاد دلاتا ہے کہ انہیں اُن باتوں کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے جو رسولوں کے ذریعے سکھائی گئی تھیں۔
آیت کا آغاز “لیکن اے عزیزو” سے ہوتا ہے۔ یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ یہوداہ ایمانداروں سے محبت اور فکر کے ساتھ بات کر رہا ہے۔ وہ انہیں ڈرانا نہیں چاہتا بلکہ ان کی روحانی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔
“اُن باتوں کو یاد رکھو” کا مطلب صرف ماضی کی باتوں کو یاد کرنا نہیں بلکہ ان تعلیمات کو دل میں قائم رکھنا اور اپنی زندگی میں ان پر عمل کرنا ہے۔
یسوع مسیح کے رسول اُن لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے یسوع مسیح کی زندگی، تعلیمات، موت اور قیامت کی گواہی دی۔ انہوں نے وہ پیغام دوسروں تک پہنچایا جو انہیں مسیح کی طرف سے ملا تھا۔
یہوداہ کا مقصد یہ سمجھانا تھا کہ ایمانداروں کو ہر نئی تعلیم کو قبول کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ یسوع مسیح اور رسولوں کی سچی تعلیمات کے مطابق ہے یا نہیں۔
اس آیت سے ہمیں کئی روحانی سبق ملتے ہیں:
1. سچی تعلیم کی قدر کریں
ایمان کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ انسان خدا کے کلام اور رسولوں کی تعلیمات کو سمجھے اور ان پر عمل کرے۔
2. غلط تعلیمات سے محتاط رہیں
دنیا میں بہت سی ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جو بظاہر اچھی لگ سکتی ہیں لیکن سچائی سے دور لے جا سکتی ہیں۔ اس لیے روحانی سمجھ بوجھ ضروری ہے۔
3. رسولوں کی تعلیمات رہنمائی فراہم کرتی ہیں
رسولوں کی تعلیمات ایمان، محبت، فرمانبرداری اور پاک زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
4. خدا کی سچائی کو یاد رکھنا ایمان کو مضبوط کرتا ہے
مشکل حالات میں وہ لوگ مضبوط رہتے ہیں جو خدا کے کلام اور یسوع مسیح کی تعلیمات کو اپنی بنیاد بناتے ہیں۔
یہوداہ 1:17 آج بھی ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہمیں سچے ایمان پر قائم رہنا چاہیے اور اُن تعلیمات کو نہیں بھولنا چاہیے جو ہمارے خداوند یسوع مسیح کے رسولوں نے ہمیں دی ہیں۔