Detailed Explanation in English
1. “And this is love”
The first important truth in this verse is John’s definition of love.
Biblical love is more than emotion. Feelings can change, but genuine love produces faithful actions. A person may say that he loves God, but John teaches that love should be visible in the way that person lives.
This does not mean that Christians earn God’s love by perfectly keeping every commandment. Rather, obedience becomes an expression of love. When a person truly loves God, that love influences his decisions, priorities, relationships, words, and behavior.
Christian love therefore has a practical dimension. It affects everyday life.
2. “That we walk after his commandments”
The word “walk” is important because it describes a continuing way of life.
John does not say that believers should obey God only occasionally. He speaks about walking in a particular direction. In biblical language, a person’s “walk” often refers to his conduct and lifestyle.
To walk after God’s commandments means to allow God’s revealed will to guide our lives.
This can include:
- Living honestly and faithfully
- Showing love and kindness toward others
- Forgiving others
- Avoiding hatred and bitterness
- Practicing humility
- Remaining faithful to Christian teaching
- Resisting sinful behavior
- Treating other people with dignity and compassion
- Keeping God’s Word at the center of daily life
Obedience is therefore not simply a religious activity. It is a pattern of living.
3. Love and obedience belong together
One of the strongest lessons of 2 John 1:6 is the relationship between love and obedience.
Modern culture can sometimes separate these ideas. People may think that love means accepting everything someone does, regardless of whether it is right or wrong. But John presents a different understanding.
According to this verse, love and obedience work together.
Love toward God produces a desire to follow His commandments, while obedience demonstrates that our love is more than words.
This principle can also be applied to relationships with other people. Christian obedience should produce patience, kindness, forgiveness, honesty, mercy, and humility. True obedience to God should never become an excuse for cruelty or pride.
4. “As ye have heard from the beginning”
John reminds his readers that this teaching is not a new invention.
The Christian message they received from the beginning already contained the command to love and live faithfully. The gospel is not something believers should continually replace with every new philosophy or teaching.
The phrase also emphasizes continuity. What Christians were taught from the beginning should remain important throughout their lives.
This is especially significant because the letter of 2 John warns believers about false teaching. John wants Christians to remain faithful to the truth they originally received.
5. “Ye should walk in it”
The final part of the verse turns teaching into action.
It is possible to hear biblical teaching without practicing it. A person can read Scripture, memorize verses, listen to sermons, and discuss theology, yet still fail to live according to what he knows.
John says that believers should “walk in it.”
This means Christian truth should become visible through conduct.
Knowing the right path is not the same as walking on it. The Christian life involves putting faith into practice day after day.
6. The verse as a guide for Christian living
2 John 1:6 provides a simple pattern:
Love → Obedience → Daily Walk
Love is not merely something we claim. It influences obedience. Obedience is not merely a momentary decision. It becomes a walk—a continuing lifestyle.
This gives Christians a practical question to consider:
Does my daily life demonstrate the love and obedience that I profess?
The verse encourages believers to examine their actions, not merely their words.
2 John 1:6 Explanation in Urdu
آیت کا بنیادی مفہوم
2 یوحنا 1:6 مسیحی زندگی میں محبت، خدا کے احکامات اور فرمانبرداری کے درمیان گہرا تعلق بیان کرتی ہے۔ یوحنا رسول محبت کو صرف جذبات یا الفاظ تک محدود نہیں کرتے بلکہ بتاتے ہیں کہ حقیقی محبت عملی زندگی میں نظر آنی چاہیے۔
آیت میں لکھا ہے:
“And this is love, that we walk after his commandments. This is the commandment, That, as ye have heard from the beginning, ye should walk in it.”
اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ خدا سے حقیقی محبت انسان کی زندگی کے طریقے اور اعمال میں ظاہر ہوتی ہے۔ جو شخص خدا کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے، اس کی زندگی میں خدا کے احکامات کی پیروی بھی نظر آنی چاہیے۔
1. “This is love” — یہی محبت ہے
یوحنا سب سے پہلے محبت کی وضاحت کرتے ہیں۔ دنیا میں محبت کو اکثر جذبات، پسند، تعلق یا احساس کے طور پر سمجھا جاتا ہے، لیکن بائبل محبت کو عملی زندگی سے جوڑتی ہے۔
محبت صرف یہ کہنا نہیں کہ “میں خدا سے محبت کرتا ہوں۔”
حقیقی محبت انسان کے فیصلوں، رویے، کردار اور زندگی کے راستے میں ظاہر ہوتی ہے۔
اگر کسی شخص کے دل میں خدا کے لیے حقیقی محبت ہے تو وہ خدا کی مرضی کو جاننے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے گا۔
اس لیے محبت صرف زبان سے بیان کرنے والی چیز نہیں بلکہ زندگی میں ظاہر ہونے والی حقیقت ہے۔
2. “That we walk after his commandments” — اس کے احکام کے مطابق چلنا
لفظ “walk” یعنی “چلنا” اس آیت کا بہت اہم حصہ ہے۔
یہاں چلنے سے مراد صرف جسمانی طور پر چلنا نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔
یعنی انسان اپنی روزمرہ زندگی میں خدا کے احکامات کو اپنا رہنما بنائے۔
اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ایک مسیحی:
- سچائی اور دیانت داری سے زندگی گزارے۔
- دوسروں کے ساتھ محبت اور مہربانی کرے۔
- دوسروں کو معاف کرنے کی کوشش کرے۔
- نفرت اور کینہ سے بچے۔
- عاجزی اختیار کرے۔
- خدا کے کلام کے مطابق فیصلے کرے۔
- گناہ سے دور رہنے کی کوشش کرے۔
- ضرورت مندوں کے ساتھ رحم اور ہمدردی کا مظاہرہ کرے۔
- مسیحی تعلیم اور سچائی پر قائم رہے۔
اس طرح “چلنا” ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ صرف ایک دن یا ایک موقع کی فرمانبرداری نہیں بلکہ زندگی کا راستہ ہے۔
3. محبت اور فرمانبرداری کا تعلق
اس آیت کی ایک بنیادی تعلیم یہ ہے کہ محبت اور فرمانبرداری ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔
اگر کوئی شخص خدا سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن خدا کی مرضی کو مسلسل نظرانداز کرتا ہے تو یوحنا کی تعلیم ہمیں اپنے دعوے کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔
فرمانبرداری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی نجات یا خدا کی محبت کو اپنے کامل اعمال سے خرید سکتا ہے۔ بلکہ فرمانبرداری اس محبت کا جواب ہے جو انسان خدا کے لیے اپنے دل میں رکھتا ہے۔
جس طرح حقیقی محبت کسی انسان کے رویے کو بدل دیتی ہے، اسی طرح خدا سے محبت بھی انسان کے کردار اور طرزِ زندگی پر اثر ڈالتی ہے۔
4. “As ye have heard from the beginning” — جیسا تم نے ابتدا سے سنا
یوحنا یاد دلاتے ہیں کہ یہ کوئی نئی تعلیم نہیں تھی۔
مسیحی ایمان کے آغاز ہی سے محبت، سچائی اور فرمانبرداری بنیادی تعلیمات میں شامل تھیں۔ اس لیے ایمانداروں کو ہر نئی تعلیم یا نظریے کے پیچھے چلنے کے بجائے اس سچائی پر قائم رہنا چاہیے جو انہوں نے ابتدا میں سنی تھی۔
2 یوحنا کے خط کے وسیع پس منظر میں یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یوحنا اپنے قارئین کو غلط تعلیمات سے محتاط رہنے کی بھی تعلیم دیتے ہیں۔
اس لیے مسیحی زندگی میں صرف نئی بات سننا کافی نہیں؛ ضروری ہے کہ انسان کلام کی سچائی کو پہچانے اور اس پر قائم رہے۔
5. “Ye should walk in it” — تم اس میں چلتے رہو
آیت کا آخری حصہ عملی زندگی پر زور دیتا ہے۔
صرف خدا کے کلام کو سننا کافی نہیں۔ صرف بائبل پڑھنا، آیات یاد کرنا یا مذہبی تعلیم حاصل کرنا بھی کافی نہیں اگر اس کا اثر ہماری زندگی پر نہ ہو۔
یوحنا کہتے ہیں کہ ایمانداروں کو “اس میں چلنا” چاہیے۔
یعنی جو سچائی انہوں نے سیکھی ہے اسے اپنے روزمرہ کردار میں ظاہر کرنا چاہیے۔
اگر ہم محبت کے بارے میں جانتے ہیں تو ہمیں محبت دکھانی چاہیے۔
اگر ہم معافی کے بارے میں جانتے ہیں تو ہمیں معاف کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر ہم سچائی کو جانتے ہیں تو ہمیں سچائی پر قائم رہنا چاہیے۔
اگر ہم خدا کے احکام کو جانتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی میں ان کی پیروی کرنی چاہیے۔
آج کے مسیحی کے لیے 2 یوحنا 1:6 کا عملی سبق
یہ آیت آج بھی ایک اہم روحانی سوال سامنے رکھتی ہے:
کیا میری زندگی میرے ایمان اور میری زبان سے کیے گئے دعوے کی گواہی دیتی ہے؟
2 یوحنا 1:6 ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مسیحی ایمان صرف نظریات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندگی گزارنے کا راستہ ہے۔
خدا سے محبت ہمارے کردار میں نظر آنی چاہیے۔ یہ ہماری گفتگو، خاندان کے ساتھ رویے، دوسروں کے ساتھ برتاؤ، مشکلات میں ہمارے ردِعمل، معافی کے رویے، دیانت داری اور روزمرہ فیصلوں میں ظاہر ہو سکتی ہے۔
اس آیت کا مرکزی پیغام مختصر طور پر یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
خدا سے محبت → اس کے احکام کی فرمانبرداری → سچائی میں مسلسل چلنا
یہی 2 یوحنا 1:6 کی عملی خوبصورتی ہے۔ یوحنا محبت کو صرف احساس نہیں بلکہ ایک ایسی زندگی کے طور پر پیش کرتے ہیں جو خدا کی مرضی کے مطابق چلنے کی کوشش کرتی ہے۔