Detailed English Explanation

1. “When he shall come”

The verse begins with the coming of Jesus Christ. Paul is looking toward a future day when Christ will return in glory. The Christian hope is not simply based upon improving circumstances in this present world; it is centered on the promised return of Jesus.

The New Testament repeatedly teaches believers to look forward to Christ’s return. His coming represents the fulfillment of God’s promises and the public revelation of Christ’s authority and glory.

For Christians who were suffering because of their faith, this promise was especially meaningful. Their suffering was not the final chapter. There would be a day when Christ would come and everything would be seen in its proper perspective.

2. “To be glorified in his saints”

The phrase “glorified in his saints” means that Christ will be honored and His glory will be displayed in relation to those who belong to Him.

The word “saints” here refers to God’s people—those who have placed their faith in Christ. Their lives, faith, perseverance, and ultimate salvation will demonstrate the greatness of Christ’s work.

Christ is not glorified because believers make Him glorious; rather, His glory will be fully manifested and recognized. What God has accomplished through Christ will become evident.

The faithfulness of Christians who endured difficulties will also testify to the transforming power of Christ. Their perseverance will demonstrate that their faith was not empty or temporary.

3. “And to be admired in all them that believe”

Paul then says that Christ will be “admired” in all those who believe.

This does not merely mean admiration in the ordinary sense of appreciating something beautiful. It conveys the idea of wonder, amazement, and recognition of Christ’s greatness.

Those who believe in Christ will see Him in a way that produces profound wonder and praise. The One whom the world may reject, ignore, or misunderstand will be recognized in His true glory.

This also gives encouragement to believers who may feel unnoticed or misunderstood in the present world. God sees their faith, and Christ’s coming will reveal the reality of their hope.

4. “Because our testimony among you was believed”

Paul connects this future glory with the testimony that he and his fellow workers had given to the Thessalonian believers.

The Gospel had been preached to them, and they had believed the testimony. Their faith was a response to the message they had heard.

This teaches an important biblical principle: faith is connected with hearing and believing the truth about Jesus Christ. The Thessalonians did not merely hear Paul’s message as information; they received it with faith.

Their belief was especially significant because they continued to follow Christ despite opposition and suffering.

5. “In that day”

The expression “in that day” points to the future day of Christ’s coming and judgment. Paul is directing the attention of believers away from temporary suffering and toward God’s ultimate purpose.

For Christians, this day is associated with hope, Christ’s glory, and the fulfillment of God’s promises.

The verse therefore gives believers a future perspective. What happens today is important, but it is not the end of the story. The return of Christ will reveal the eternal significance of faithfulness.


اردو میں تفصیلی وضاحت

2 تھسلنیکیوں 1:10 کا مفہوم

2 تھسلنیکیوں 1:10 ایک نہایت اہم آیت ہے جو یسوع مسیح کی آمد، اُس کے جلال، ایمانداروں کی حالت اور انجیل پر ایمان کے بارے میں بیان کرتی ہے۔ پولس رسول نے یہ بات اُن مسیحی ایمانداروں کو حوصلہ دینے کے لیے لکھی جو اپنے ایمان کی وجہ سے مشکلات اور ایذا رسانی برداشت کر رہے تھے۔

آیت کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ایک آنے والا دن ہے جب یسوع مسیح اپنے جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا، اور اُس کے مقدس لوگوں میں اُس کا جلال ظاہر ہوگا۔ جو لوگ اُس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اُس کی عظمت کو دیکھ کر حیرت اور تعظیم سے بھر جائیں گے۔

“جب وہ آئے گا”

یہ الفاظ یسوع مسیح کی آنے والی آمد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مسیحی ایمان میں مسیح کی واپسی ایک بنیادی امید ہے۔ موجودہ زندگی میں مشکلات، دکھ اور مخالفت ہو سکتی ہے، لیکن ایماندار کی امید صرف موجودہ حالات پر منحصر نہیں ہے۔

مسیح کی آمد اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خدا کے وعدے اپنے مقررہ وقت پر پورے ہوں گے۔ جو لوگ آج ایمان کی وجہ سے مشکلات برداشت کر رہے ہیں، اُن کے لیے یہ ایک بڑی تسلی ہے کہ اُن کی تکلیف آخری حقیقت نہیں ہے۔

“اپنے مقدسوں میں جلال پانے کے لیے”

یہاں “مقدسوں” سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح سے تعلق رکھتے ہیں اور اُس پر ایمان رکھتے ہیں۔

جب مسیح آئے گا تو اُس کا جلال اُس کے لوگوں کے ساتھ نمایاں ہوگا۔ اُن کی نجات، وفاداری، ایمان اور ثابت قدمی مسیح کے کام کی عظمت کو ظاہر کرے گی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مسیح کو جلال دیتا ہے جس کے بغیر وہ جلال والا نہیں؛ بلکہ مطلب یہ ہے کہ مسیح کی حقیقی عظمت اُس دن نمایاں اور واضح ہوگی۔ جو کچھ اُس نے اپنے لوگوں کے لیے کیا ہے، وہ پوری طرح ظاہر ہوگا۔

“اور اُن سب میں جو ایمان لاتے ہیں حیرت انگیز ہونا”

یہ جملہ مسیح کی عظمت کے سامنے ایمانداروں کے حیرت اور تعظیم کے احساس کو ظاہر کرتا ہے۔

آج دنیا میں بہت سے لوگ یسوع مسیح کو نظرانداز کر سکتے ہیں یا اُس کی حقیقت کو قبول نہیں کرتے، لیکن اُس دن اُس کی عظمت پوری طرح ظاہر ہوگی۔ جو لوگ اُس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اُس کی قدرت، جلال اور نجات کے کام کو دیکھ کر حیرت میں پڑ جائیں گے۔

یہ بات ایماندار کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ اگر دنیا اُس کے ایمان کو نہ سمجھے، تب بھی اُس کا ایمان بے معنی نہیں ہے۔ خدا ایمان کو دیکھتا ہے اور مسیح کی آمد اُس ایمان کی حقیقت کو ظاہر کرے گی۔

“کیونکہ ہماری گواہی کا تمہارے درمیان یقین کیا گیا”

پولس رسول یاد دلاتا ہے کہ جب اُس نے اور اُس کے ساتھیوں نے انجیل کی گواہی دی تو تھسلنیکی ایمانداروں نے اُس پیغام پر ایمان کیا۔

یہاں گواہی سے مراد مسیح کے بارے میں سنایا جانے والا انجیل کا پیغام ہے۔ اُن لوگوں نے صرف پیغام سنا نہیں بلکہ اُس پر یقین بھی کیا۔

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مسیحی ایمان میں خدا کے کلام کو سننا اور اُسے سچے دل سے قبول کرنا اہم ہے۔ تھسلنیکی ایمانداروں کا ایمان اُن کی زندگی اور مشکلات کے دوران ثابت قدمی میں بھی ظاہر ہوا۔

“اُس دن”

“اُس دن” مستقبل کے اُس خاص دن کی طرف اشارہ کرتا ہے جب مسیح ظاہر ہوگا۔ یہ دن خدا کے منصوبے کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔

ایماندار کے لیے یہ خوف کے بجائے امید اور تسلی کا پیغام ہے۔ آج کی مشکلات عارضی ہیں، لیکن خدا کے وعدے ابدی ہیں۔ مسیح کی آمد اُس حقیقت کو ظاہر کرے گی جس پر ایماندار نے ایمان رکھا ہے۔


2 Thessalonians 1:10 کا مرکزی روحانی پیغام

اس آیت کا بنیادی سبق یہ ہے کہ ایماندار کو موجودہ مشکلات کے بجائے مسیح کی آنے والی عظمت پر اپنی نظر رکھنی چاہیے۔

پولس نے اُن لوگوں کو یہ یاد دلایا کہ اُن کا ایمان بے فائدہ نہیں تھا۔ انہوں نے انجیل کی گواہی کو قبول کیا، مسیح پر ایمان رکھا اور مشکلات میں ثابت قدم رہے۔ آنے والے دن میں مسیح کا جلال ظاہر ہوگا اور اُس کے لوگوں کے درمیان اُس کی عظمت نمایاں ہوگی۔

یہ آیت ہمیں تین اہم باتیں یاد دلاتی ہے:

  1. یسوع مسیح دوبارہ آئے گا۔
  2. مسیح کا جلال اُس دن پوری طرح ظاہر ہوگا۔
  3. جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اُن کے لیے یہ دن امید اور خوشی کا باعث ہوگا۔

لہٰذا 2 تھسلنیکیوں 1:10 ایک ایسا پیغام ہے جو ایماندار کو وفاداری، ایمان اور ثابت قدمی کے ساتھ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ موجودہ دنیا میں حالات جیسے بھی ہوں، مسیحی امید کا مرکز آنے والا مسیح ہے۔

Similar Posts