Genesis 3:11 Commentary
Verse: And he said Who told thee that thou wast naked Hast thou eaten of the tree whereof I commanded thee that thou shouldest not eat
English Detailed Explanation
This verse captures a profound moment of divine confrontation following the first act of human disobedience. After Adam and Eve ate the forbidden fruit, their immediate reaction was a sense of shame and a desire to hide from God. When Adam admits to hiding because of his nakedness, God responds with two penetrating questions.
-
“Who told thee that thou wast naked?” God is not seeking information—as an omniscient Being, He already knows the answer. Instead, He is addressing the source of Adam’s new consciousness. Before the Fall, Adam and Eve were naked and unashamed because their focus was outward toward God and each other in perfect innocence. This question forces Adam to realize that his sudden sense of shame is not a natural development, but a result of a broken relationship and a corrupted nature.
-
“Hast thou eaten of the tree…?” Here, God directly addresses the specific act of rebellion. He links Adam’s internal feeling (shame) to his external action (disobedience). By mentioning His previous command (“whereof I commanded thee”), God reminds Adam of the covenant and the boundary that was set. This question serves as an invitation for Adam to confess and take responsibility for his choice. It highlights the transition from a state of grace to a state of guilt.
اردو مفصل وضاحت
یہ آیت انسانی تاریخ کے اس اہم موڑ کی عکاسی کرتی ہے جہاں گناہ کے بعد خدا اور انسان کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔ جب آدم اور حوا نے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا، تو ان کے اندر شرمندگی کا احساس پیدا ہوا اور وہ خدا سے چھپنے لگے۔ جب آدم نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی عریانیت کی وجہ سے چھپا ہوا ہے، تو خدا نے اس سے دو گہرے سوال کیے۔
۱۔ “تجھے کس نے بتایا کہ تو ننگا ہے؟” خدا علیم و خبیر ہے، وہ سب کچھ جانتا ہے۔ اس سوال کا مقصد معلومات حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ آدم کو اس کی نئی سوچ اور بدلی ہوئی فطرت کا احساس دلانا تھا۔ گناہ سے پہلے آدم اور حوا معصوم تھے اور انہیں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی تھی۔ خدا اس سوال کے ذریعے آدم کو یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ یہ شرمندگی کسی بیرونی اطلاع کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے اپنے اندر پیدا ہونے والے گناہ کے احساس کا نتیجہ ہے۔
۲۔ “کیا تو نے اس درخت کا پھل کھایا…؟” اس دوسرے سوال میں خدا براہِ راست اس نافرمانی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اس تمام بگاڑ کی جڑ تھی۔ خدا نے آدم کو اپنا وہ حکم یاد دلایا (“جس کی بابت میں نے تجھے حکم دیا تھا”) جس کی اس نے خلاف ورزی کی تھی۔ یہ سوال دراصل آدم کو توبہ اور اعترافِ جرم کا ایک موقع فراہم کرنے کے لیے تھا۔ خدا یہاں یہ واضح کر رہا ہے کہ انسان کی اندرونی بے چینی اور شرمندگی دراصل خدا کے حکم کو توڑنے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ گناہ انسان اور خدا کے درمیان جدائی پیدا کر دیتا ہے، لیکن خدا پھر بھی انسان کو پکارتا ہے تاکہ وہ اپنے فعل کی ذمہ داری قبول کر سکے۔